الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَالْعَمَلِ فِيهِ باب: ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3664
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ رَمَضَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلَّقُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان شروع ہو چکا ہے، یہ ایک بابرکت مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس ماہ کے روزے فرض کئے ہیں، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بھی قید کر دیا جاتا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے کہ وہ ایک ہزارمہینوں سے بھی افضل ہے، جو اس رات کی برکت سے محروم رہا، وہ محروم قرار پائے گا۔
وضاحت:
فوائد: … جنت کے دروازوں کا کھلنا، جہنم کے دروازوں کا بند ہونا اور شیطانوں کا قید ہو جانا۔ ان الفاظ کو حقیقی معنوں پر ہی محمول کرنا چاہیے۔ صرف مؤخر الذکر چیز سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے تو پھر ماہِ مقدس میں نافرمانیوں کا سلسلہ کیوں جاری رہتا ہے؟
اس کے مختلف جوابات دیئے ہیں: مثلا: (۱) شیطانوں کے علاوہ بھی شرّ اور معصیت کے اسباب موجود ہیں، مثال کے طور پر نفوسِ خبیثہ، عاداتِ قبیحہ اور انسانی شیطان۔
(۲) بعض شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے، سب کو نہیں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے: ((صُفِّدَتْ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ)) … ’’بڑے سرکش شیطانوں کو قید کر لیا جاتا ہے۔‘‘
(۳) شیطانوں کو جکڑنا ان روزے داروں کے حق میں ہے، جو روزے کی شروط، قیود اور آداب کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔
(۴) اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں کا شرّ کم ہو جاتا ہے، وہ اس طرح لوگوں کو گمراہ نہیں کر سکتے، جس طرح کہ دوسرے مہینوں میں کر لیتے ہیں،یا تو ان کے اختیار سلب کر لیے جاتے ہیںیا مومنوں کے ایمان میں قوت پیدا کر دی
جاتی ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے کے افراد تیسرے اور چوتھے معنوں کے مصداق نظر آتے ہیں، زیادہ مناسبت تیسرے معنی میں محسوس ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ بھی قابل غور ہے کہ شب ِ قدر کا قیام نفلی عبادت ہے، لیکن اس کو ترک کرنے والے محروم اور بد نصیب ہے، مقصودِ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے ایک رات کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار دیا ہے، لیکن کیا مسلمان کے مزاج میں نیکی کی اتنی رغبت بھی نہیں رہی کہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کو وصول کر سکے، پس جس کے مزاج میں اتنی بہتری بھی نہیں ہو گی، وہ محروم اور بدبخت قرار پائے گا، سمجھ لینا چاہیے کہ ایسے افراد میں نیکی کے مزاج کا شدید فقدان ہے۔
اس کے مختلف جوابات دیئے ہیں: مثلا: (۱) شیطانوں کے علاوہ بھی شرّ اور معصیت کے اسباب موجود ہیں، مثال کے طور پر نفوسِ خبیثہ، عاداتِ قبیحہ اور انسانی شیطان۔
(۲) بعض شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے، سب کو نہیں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے: ((صُفِّدَتْ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ)) … ’’بڑے سرکش شیطانوں کو قید کر لیا جاتا ہے۔‘‘
(۳) شیطانوں کو جکڑنا ان روزے داروں کے حق میں ہے، جو روزے کی شروط، قیود اور آداب کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔
(۴) اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں کا شرّ کم ہو جاتا ہے، وہ اس طرح لوگوں کو گمراہ نہیں کر سکتے، جس طرح کہ دوسرے مہینوں میں کر لیتے ہیں،یا تو ان کے اختیار سلب کر لیے جاتے ہیںیا مومنوں کے ایمان میں قوت پیدا کر دی
جاتی ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے کے افراد تیسرے اور چوتھے معنوں کے مصداق نظر آتے ہیں، زیادہ مناسبت تیسرے معنی میں محسوس ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ بھی قابل غور ہے کہ شب ِ قدر کا قیام نفلی عبادت ہے، لیکن اس کو ترک کرنے والے محروم اور بد نصیب ہے، مقصودِ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے ایک رات کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار دیا ہے، لیکن کیا مسلمان کے مزاج میں نیکی کی اتنی رغبت بھی نہیں رہی کہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کو وصول کر سکے، پس جس کے مزاج میں اتنی بہتری بھی نہیں ہو گی، وہ محروم اور بدبخت قرار پائے گا، سمجھ لینا چاہیے کہ ایسے افراد میں نیکی کے مزاج کا شدید فقدان ہے۔