الفتح الربانی
كتاب الصيام— روزوں کے احکام
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ مُطْلَقًا باب: روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3642
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ، وَفِيهِ: ((إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ، إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اور وہ اِس کو بدلہ دے گا تو یہ خوش ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … افطاری کے وقت خوشی کا سبب عبادت کامکمل ہونا، مفسدات سے پاک ہونا اور اجر و ثواب کی امید ہونا اور مختلف ماکولات و مشروبات سے بھوک پیاس کو دور کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت خوشی کا سبب اِس عمل کی جزا کو دیکھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کویاد کرنا ہے، جس کی وجہ سے اس عبادت کی توفیق ملی تھی۔