حدیث نمبر: 2915
عَنْ رَجُلٍ يُدْعَى حَنَشًا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ فَقَرَأَ يَسٓ أَوْ نَحْوَهَا، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ السُّورَةِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّورَةِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ أَيْضًا، ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ أَيْضًا قَدْرَ السُّورَةِ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ ذَلِكَ أَيْضًا حَتَّى صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى ثُمَّ جَلَسَ يَدْعُو وَيُرَغِّبُ حَتَّى انْكَشَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَذَلِكَ فَعَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حنش نامی آدمی کہتا ہے: سورج کو گرہن لگ گیا، سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے سورۂ یس یا اس جیسی کسی اور سورت کی تلاوت کی، پھراس سورت کے بقدر رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا، : پھر ایک سورت کی مقدار جتنا قیام کیا اور مزید دعا کی اور اللہ کی بڑائی بیان کی، پھر قراءت کی مقدار کے برابر رکوع کیا، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا اور پھر ایک سورت کے بقدر قیام کیا، اور پھر اسی مقدار کے مطابق رکوع کیا، بہرحال چار رکوع پورے کیے، پھر سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ کہا،اس کے بعد سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے اور پہلی رکعت کی طرح اس کو ادا کیا، (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) بیٹھ گئے اور دعا کرنے لگے، اور (لوگوں کو) رغبت دلانے لگے، حتیٰ کہ سورج صاف ہوگیا، پھر لوگوں کو بیان کیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الكسوف / حدیث: 2915
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، حنش بن المعتمر، الأكثرون علي تضعيفه أخرجه البيھقي: 3/ 330، وابن خزيمة: 1388، 1394 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1216»