الفتح الربانی
كتاب العلم— علم کے ابواب
بَابٌ فِي وَعِيدِ مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا فَكَتَمَهُ أَوْ لَمْ يَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَعَلَّمَ لِغَيْرِ اللَّهِ باب: علم حاصل کرنے کے بعد اس کو چھپا لینے والے یا اس پر عمل نہ کرنے والے یا کسی غیر اللہ کے لیے وہ علم حاصل کرنے والی کی مذمت کابیان
حدیث نمبر: 278
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ)) يَعْنِي رِيحَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ علم جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا چہرہ تلاش کیا جاتا ہے، جو آدمی اس کو سامانِ دنیا حاصل کرنے کے لیے سیکھتا ہے وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“
وضاحت:
فوائد: … جو چیز محض عبادت ہو، جیسے قرآن و حدیث کی تعلیم، صدقہ و خیرات، جہاد اور دوسرے امورِ اسلام، ان کے حصول کے وقت کوئی دنیوی مقصد مدنظر نہیں رکھنا چاہیے، یہ انتہائی نازک مسئلہ ہے اور کم لوگ ہیں، جو اس نزاکت کو سمجھ پاتے ہیں، جبکہ یہ معاملات انتہائی سنجیدگی اور غور وفکر کا مطالبہ کرتے ہیں۔