الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
رُؤْيَةُ الْمُؤْمِنِينَ رَبَّهُمْ عَزَّوَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ أَعْظَمُ نِعْمَةٍ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ بِهَا ، لا أَحْرَمَنَا اللهُ مِنْهَا، وَفِيهَا أَيْضًا تَلْخِيْصُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ يَوْمِ الْمَوْقِفِ إِلَى ذَبْحِ الْمَوْتِ باب: اہل ایمان کا جنت میں اپنے ربّ کا دیدار کرنا اور یہ سب سے بڑی نعمت ہو گی، جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا کرے گا، اللہ ہمیں اس سے محروم نہ رکھے (آمین)نیز اس باب میں موقف سے موت کے ذبح ہونے تک کے ابواب کی تلخیص بھی ہے
حدیث نمبر: 13340
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكُلُّنَا يَرَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: ”يَا أَبَا رَزِينٍ! أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مُخْلًى بِهِ?“ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ”فَاللَّهُ أَعْظَمُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو رزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم سب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے اور اس کی مخلوق میں اس کی کوئی مثال دی جا سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو رزین! کیا تم میں سے ہر کوئی اپنی اپنی جگہ سے چاندکو نہیں دیکھ لیتا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تو اس سے عظیم ہے۔