الفتح الربانی
كتاب النار والجنة— جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل
أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَصِفَتُهُمْ باب: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے لوگوں اور ان کی صفات کا تذکرہ
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”إِنَّ أَوَّلَ ثُلَّةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ وَإِذَا أُمِرُوا سَمِعُوا وَأَطَاعُوا وَإِذَا كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إِلَى السُّلْطَانِ لَمْ تُقْضَ لَهُ حَتَّى يَمُوتَ وَهِيَ فِي صَدْرِهِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّةَ فَتَأْتِي بِزُخْرُفِهَا وَزِينَتِهَا فَيَقُولُ: أَيْ عِبَادِي الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي وَقُتِلُوا وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِي ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَيَدْخُلُونَهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ“ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا گروہ ان فقراء مہاجرین کا ہوگا کہ جن کے ذریعے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا تھا،ان کو جب کوئی حکم دیا جاتا تھا تو یہ سنتے اور اس کی اطاعت کرتے، لیکن اگر ان میں سے کسی کو کسی بادشاہ سے کام پڑ جاتا تو مرتے دم تک اس کا کام نہیں کیا جاتا تھا، اور وہ اپنی خواہش دل میں ہی دبائے فوت ہو جاتا تھا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جنت کو بلائے گا، چنانچہ وہ اپنی تمام آرائشوں اور زینتوں کے ساتھ آئے گی، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: اے میرے وہ بندو! جنہوں نے میری راہ میں قتال کیا اور مارے گئے اور میری راہ میں جن کو ایذائیں دی گئیں اور جنہوں نے میری راہ میں جہاد کیا، جنت میں داخل ہو جاؤ، چنانچہ وہ حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے، … ۔