الفتح الربانی
يوم الحساب— یوم حساب
شِدَّةُ الْحِسَابِ وَنَدْمُ الْمُؤْمِنِ عَلَى عَدَمِ الْازْدِيَادِ مِنَ الْخَيْرِ وَتَانِيْبُ الْكَافِرِ باب: محاسبہ کی سختی ، اہل ایمان کا مزید نیکیاں نہ کر لانے پر ندامت اور کفار کی ڈانٹ ڈپٹ کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَنْتَ مُفْتَدٍ بِهِ قَالَ فَيَقُولُ نَعَمْ قَالَ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي“سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کر یم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک جہنمی سے کہا جائے گا: کیا تیرایہ خیال ہے کہ اگر تیرے پاس زمین پر پائے جانے والے سارے خزانے ہوتے تو کیا تو جہنم سے آزاد ہونے کے لیے وہ اس فدیے میں دے دیتا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے بھی آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، جب تو آدم علیہ السلام کی پشت میں تھا تو میں نے تجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، مگر تو تو میرے ساتھ شرک کرنے پر ہی مصر رہا۔