حدیث نمبر: 12682
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”هُوَ مَسْجِدِي هَذَا“ [سورة التوبة: 108]
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بھی اس مفہوم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو میری یہی مسجد ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ویسے تو مسجد ِ نبوی اور مسجد قباء دونوں کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے، اس اختلاف سے مراد یہ ہے کہ درج ذیل آیت میں کس مسجد کا ذکر ہے: {لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ۔} … یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی زیادہ حق دار ہے کہ تو اس میں کھڑا ہو۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ بہت پاک رہیں اور اللہ بہت پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورۂ توبہ: ۱۰۸) ان احادیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ جس مسجد کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی، اس سے مراد مسجد ِ نبوی ہے، لیکن جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ آیت میں جس مسجد کا ذکر ہے، اس سے مراد مسجد قباء ہے اور آیت کا ظاہری معنی اور سیاق و سباق کا تقاضا بھی یہی ہے۔
حق یہ ہے کہ دونوں مسجدوں کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے، اس آیت کے آخری الفاظ فِیْہِ رِجَالٌ … اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اس آیت میں مسجد ِ قباء کا ذکر ہے، سنن ابو داود کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فِیْہِ رِجَالٌ … اہل قباء کے حق میں نازل ہوئی۔
تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب میں راز یہ ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وہم کو دور کرنا چاہتے ہیں کہ صرف مسجد ِ قباء ایسی مسجد ہے، جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی۔ واللہ اعلم۔ (تلخیص از فتح الباری و تحفۃ الاحوذی)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12682
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 370، وابن حبان: 1604، والطبراني في الكبير :6025 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22805 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23191»