الفتح الربانی
كتاب الفضائل— کتاب الفضائل
البابُ السَّابِعُ فِيمَا جَاءَ فِي خَرَابِ الْمَدِينَةِ آخِرَ الزَّمَانِ باب: ہفتم: آخری زمانہ میں مدینہ منورہ کی ویرانی کا بیان
حدیث نمبر: 12669
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”الْمَدِينَةُ يَتْرُكُهَا أَهْلُهَا وَهِيَ مُرْطِبَةٌ“، قَالُوا: فَمَنْ يَأْكُلُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ”السِّبَاعُ وَالْعَائِفُ“، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ: فَحُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا بِشْرٍ قَالَ: كَانَ فِي كِتَابِ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مدینہ اگر چہ تازہ کھجوروں والا ہوگا، مگر اہل مدینہ اسے چھوڑ جائیں گے۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہاں (کے پھل اور غلہ وغیرہ) کون کھائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: درندے اور پرندے۔ ابو عوانہ نے کہا: مجھے بتایا گیا کہ ابو بشر نے کہا ہے کہ یہ حدیث سلیمان بن قیس کی کتاب میں تھی۔