حدیث نمبر: 12583
عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُضَرَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَصَرَكَ وَأَعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ فَأَعْرَضَ عَنْهُ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَصَرَكَ وَأَعْطَاكَ وَاسْتَجَابَ لَكَ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ ”اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيعًا طَبَقًا غَدَقًا غَيْرَ رَائِثٍ نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ“ فَمَا كَانَتْ إِلَّا جُمُعَةً أَوْ نَحْوَهَا حَتَّى مُطِرُوا قَالَ شُعْبَةُ فِي الدُّعَاءِ كَلِمَةٌ سَمِعْتُهَا مِنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ سَالِمٍ فِي الِاسْتِسْقَاءِ وَفِي حَدِيثِ حَبِيبٍ أَوْ عَمْرٍو عَنْ سَالِمٍ قَالَ جِئْتُكَ مِنْ عِنْدِ قَوْمٍ مَا يَخْطِرُ لَهُمْ فَحْلٌ وَلَا يُتَزَوَّدُ لَهُمْ رَاعٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مضر پر بددعا کی، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد فرمائی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعاقبول فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم ہلاک ہورہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے ان کے حق میں دعا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رخ پھیرلیا، میں نے دوبارہ کہا: اللہ کے رسول! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا قبول فرمائی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم ہلاک ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ سے ان کے حق میں دعا فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! ایسی بارش نازل فرما، جو ہمیں سیراب کر دے، بہت زیادہ ہو، نفع والی ہو، نقصان والی نہ ہو۔ ایک ہفتہ کے لگ بھگ گزرا ہوگا کہ وہاں خوب بارش برسی۔ شعبہ راوی نے اس دعا میں ایسا لفظ بھی بیان کیا ہے جو میں نے حبیب بن ابی ثابت عن سالم سے الا ستسقاء میں بھی سنا ہے اور سالم سے حبیب یا عمرو کی روایت میں ہے: میں آپ کے پاس ایسی قوم کے پاس سے آرہا ہوں کہ شدت بھوک کی وجہ سے ان کے اونٹ اپنی دموں کو حرکت تک نہیں دیتے اور ان کے چرواہوں کے پاس زادِ راہ تک نہیں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الفضائل / حدیث: 12583
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سالم بن ابي الجعد لم يسمع من شرحبيل بن السمط، اخرجه ابن ماجه: 1269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18062 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18229»