الفتح الربانی
— صحابیات
باب مَا جَاءَ فِي الرُّمَبْصَاءِ أَوِ الْعُمَيْصَاءِ أَمْ سُلَيْمٍ وَالدةِ انَسِ بْنِ مَالِكِ وَزَوْجَةِ أَبِي طَلْحَةَ الأنصاري رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا باب: سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ماں، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ ام سلیم رمیصاء (یاغمیصائ) رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَتْ مَعَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَإِذَا مَعَ أُمِّ سُلَيْمٍ خِنْجَرٌ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ مَا هَذَا مَعَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنَ الْكُفَّارِ أَبْعَجُ بِهِ بَطْنَهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَلَا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ كَفَانَا وَأَحْسَنَ“سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا غزوۂ حنین کے موقع پر اپنے شوہر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں، اس روز سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک خنجر تھا، سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : ام سلیم !یہ آپ کے پاس کس لیے ہے؟ انھوں نے کہا: یہ میں نے اس لیے ساتھ رکھا ہے کہ اگر کوئی کافر میرے قریب آیا تو میں اس کے ساتھ اس کے پیٹ کو چاک کر دوں گی۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ ام سلیم رضی اللہ عنہ کی بات سن رہے ہیں، وہ تو یوں کہہ رہی ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے جن لوگوں کو مکہ میں آزاد کیا ہے ان کا ایمان کم زور ہے، وہ منافق ہیں، آپ ان کو قتل کر دیں۔ اے اللہ کے رسول! وہ آپ کو اکیلے چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے ہماری مددکی اور خوب مدد کی۔
غزوۂ حنین کے موقع پر ایک بار مسلمانوں کو پسپا ہونا پڑا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں سخت رویہ پیش کیا، لیکن دو بارہ مسلمان سنبھل گئے اور اللہ تعالیٰ نے فتح عطا کر دی۔
خواتین کا جہاد میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ کتاب الجھاد میں اس تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔