الفتح الربانی
— باب
بَابُ السَّادِسَةِ مِنْ أَزْوَاجِهِ ﷺ أُمِ الْمُؤْمِنِينَ أَمْ حبيبة رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھٹی زوجہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ اجْتَمَعَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقُلْنَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيَّتُنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا فَقَالَ ”أَطْوَلُكُنَّ يَدًا“ فَأَخَذْنَا قَصَبًا فَذَرَعْنَاهَا فَكَانَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ أَطْوَلَنَا ذِرَاعًا فَقَالَتْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ سَوْدَةُ أَسْرَعَنَا بِهِ لُحُوقًا فَعَرَفْنَا بَعْدُ إِنَّمَا كَانَ طُولُ يَدِهَا مِنَ الصَّدَقَةِ وَكَانَتْ امْرَأَةً تُحِبُّ الصَّدَقَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج ایک دن آپ کے پاس جمع تھیں، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! ہم میں سے سب سے پہلے کون سی بیوی آپ کو جاملے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس کے ہاتھ سب سے لمبے ہیں، وہ سب سے پہلے مجھے آکر ملے گی۔ ہم نے ایک سرکنڈا لے کر ہاتھوں کی پیمائش کی، تو ہم میں سے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا ہاتھ سب سے طویل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو ہم میں سے سب سے پہلے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملیں،یعنی ازواج مطہرات میں سب سے پہلے ان کا انتقال ہوا، توہمیں بعد میں اس حقیقت کا پتہ چلا کہ ان کا ہاتھ صدقہ کرنے میں لمبا تھا، وہ صدقہ کرنے کو بہت زیادہ پسند کرتی تھیں۔