حدیث نمبر: 11409
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ قَبْلَ مَخْرَجِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَتْنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ فِي أُرْجُوحَةٍ وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ فَذَهَبْنَ بِي فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد مدینہ منورہ کی طرف روانگی سے دویاتین سال قبل نکاح کیا، جبکہ میری عمر سات سال تھی۔ جب ہم مدینہ منورہ آئے تو چند خواتین میرے پاس آئیں، جبکہ میں جھولا جھول رہی تھی اور میرے بال کندھوں تک تھے، وہ عورتیں مجھے لے گئیں اور انہوں نے مجھے تیار کیا اور بنا سنوار دیا اور پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئیں اور میری رخصتی کر دی۔ اس وقت میری عمر نو برس تھی۔

وضاحت:
فوائد: … شریعت ِ اسلامیہ میں عقل، نقلی علوم کے تابع ہے، نقلی علوم سے مراد قرآن و حدیث ہیں، شادی اور نکاح کے بارے ایک قانون یہ ہے کہ جب رخصتی ہونے لگے تو وہ مرد اور عورت بالغ ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ شادی کرنے پر رضامند ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی شادی پر غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پچیس برس کے نوجوان تھے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا چالیس برس کی بیوہ تھیں، چونکہ دونوں راضی تھے، اس لیے ہر ایک نے قبول کیا،یہی معاملہ ان احادیث کا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نو برس کی عمر میں بالغ ہو گئیں، جبکہ اس عمر میں خواتین کے بالغ ہو جانے کی دیگر مثالیںبھی موجود ہیں، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر ترپن برس تھی، چونکہ دونوں طرف سے رضامندی تھی، بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تو بڑی سعادت کا حصول ہو رہا تھا، اس لیے ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ ہم اپنی عقل کو دخل دیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر نو برس ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ترپن برس اور شادی کر دی جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11409
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3894، 5133، ومسلم: 1422 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26929»