الفتح الربانی
— باب
وَهِيَ الثَّالِثَهُ مِنْ أَزْوَاجِهِ¤بَابٌ فِي تَارِيخِ الْعَقْدِ عَلَيْهَا وَالْبَنَاءِ بِهَا وَكَمْ كَانَ عُمَرُهَا وَقِصَّةِ زِفَافِهَا باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عقد نکاح کی تاریخ، رخصتی کا بیان، اس وقت ان کی عمر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضری کا تذکرہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ قَبْلَ مَخْرَجِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ بِسَنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَتْنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ فِي أُرْجُوحَةٍ وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ فَذَهَبْنَ بِي فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد مدینہ منورہ کی طرف روانگی سے دویاتین سال قبل نکاح کیا، جبکہ میری عمر سات سال تھی۔ جب ہم مدینہ منورہ آئے تو چند خواتین میرے پاس آئیں، جبکہ میں جھولا جھول رہی تھی اور میرے بال کندھوں تک تھے، وہ عورتیں مجھے لے گئیں اور انہوں نے مجھے تیار کیا اور بنا سنوار دیا اور پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئیں اور میری رخصتی کر دی۔ اس وقت میری عمر نو برس تھی۔