الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ رُؤْيَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا وَهَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّوَجَلَّ لَيْلَةَ الْمِعْرَاجِ أَمْ لَا؟ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ أَنْ يَرَاهُ فِي صُورَتِهِ فَقَالَ ادْعُ رَبَّكَ قَالَ فَدَعَا رَبَّهُ فَطَلَعَ عَلَيْهِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ قَالَ فَجَعَلَ يَرْتَفِعُ وَيَنْتَشِرُ قَالَ فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَعِقَ فَأَتَاهُ فَنَعَشَهُ وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقَيْهِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ ان کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں، انھوں نے کہا: اپنے ربّ سے دعا کرو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ سے دعا کی، پس مشرق کی طرف سے سیاہ رنگ کا ایک وجود اٹھا، پھر وہ بلند ہونے اور پھیلنے لگا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیہوش ہو گئے، جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھڑا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوشۂ دہن سے لعاب کو صاف کیا۔