حدیث نمبر: 10508
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَصُهَيْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَبِلَالٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالْمِقْدَادُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ فَمَا مِنْهُمْ إِنْسَانٌ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا إِلَّا بِلَالٌ فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ وَأَخَذُوا يَطُوفُونَ بِهِ شِعَابَ مَكَّةَ وَهُوَ يَقُولُ أَحَدٌ أَحَدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سب سے پہلے سات افراد نے اسلام کا اظہار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدنا ابو بکر، سیدنا عمار بن یاسر، ان کی ماں سیدہ سمیہ، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا مقدادf، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کے چچا ابو طالب کے ذریعے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ان کی قوم کے ذریعے تحفظ دیا، باقی سارے افراد کو مشرکوں نے پکڑ لیا اور ان کو آہنی لباس پہنا دیئے اور دھوپ میں کھڑا کر کے ان کو عذاب دیا، ہر آدمی ان کے ارادے کے مطابق ان کی موافقت کر جاتا، ما سوائے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے اپنے نفس کو حقیر سمجھ لیا تھا، اُدھر ان کی قوم نے بھی ان کو کم اہمیت سمجھ کر بچوں کو پکڑا یا وہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو لے کر مکہ کی گھاٹیوں میں چکر لگاتے، لیکن سیدنا بلال یہ کہہ رہے ہوتے: اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10508
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 150 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3832»