حدیث نمبر: 10475
عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَذَكَرَ بِنَاءَ الْكَعْبَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ وَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ حِجَارَةً مِنْ أَجْيَادٍ وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ فَذَهَبَ يَضَعُ النَّمِرَةَ عَلَى عَاتِقِهِ فَتُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ فَنُودِيَ يَا مُحَمَّدُ خَمِّرْ عَوْرَتَكَ)) وَفِي رِوَايَةٍ ((فَنُودِيَ لَا تَكْشِفْ عَوْرَتَكَ فَأَلْقَى الْحَجَرَ وَلَبِسَ ثَوْبَهُ)) ((فَلَمْ يُرَ عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ جاہلیت میں کعبہ کی تعمیر کا ذکر کر رہے تھے، انھوں نے کہا: قریش نے کعبہ کو گرایا اور پھر اس کو وادی کے پتھروں سے بنانا شروع کیا، وہ اپنی گردنوں پر پتھر اٹھا کر لاتے، انھوں نے عمارت کو بیس ہاتھ بلند کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اجیاد سے پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر باندھی ہوئی تھی، وہ چادر تنگ تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے کندھے پر رکھنا چاہا تو اس کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پردے کے مقامات نظر آنے لگے، کسی نے آواز دی: اے محمد! اپنی شرمگاہ پر پردہ کرو، ایک روایت میں ہے: پس آپ کو آواز دی گئی: اپنی شرمگاہ کو ننگا نہ کرو، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پتھر پھینک دیا اور چادر باندھ لی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ننگی حالت میں نہیں دیکھا گیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10475
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، أخرجه عبد الرزاق: 9106 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24210»