الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ ذِكْرِ رَضَاعِهِ مِنْ حَلِيْمَةَ السَّعْدِيَّةِ وَمَا ظَهَرَ عَلَيْهِ مِنْ آيَاتِ النُّبُوَّةِ باب: نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَأَتَاهُ آتٍ فَأَخَذَهُ فَشَقَّ بَطْنَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً فَرَمَى بِهَا وَقَالَ هَذِهِ نَصِيبُ الشَّيْطَانِ مِنْكَ ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَشْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ لَأَمَهُ فَأَقْبَلَ الصِّبْيَانُ إِلَى ظِئْرِهِ قُتِلَ مُحَمَّدٌ قُتِلَ مُحَمَّدٌ فَاسْتَقْبَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ فَقَدِ انْتَقَعَ لَوْنُهُ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ كُنَّا نَرَى أَثَرَ الْمَخِيطِ فِي صَدْرِهِ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچوںکے ساتھ کھیل رہے تھے کہ ایک آنے والا آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیٹ مبارک چاک کیا اور اس سے خون کا لوتھڑا نکال کر پھینک دیا اور کہا: یہ آپ سے شیطان کا حصہ تھا،پھر اس نے اس کو سونے کے تھال میں موجود زمزم کے پانی سے دوھویا، بچے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دایہ کے پاس گئے اور کہا: محمد( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو قتل کر دیا گیا ہے، پس جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لینے آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بدلا ہوا تھا، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینے میں سلائی کا نشان دیکھتے تھے۔
اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لوتھڑے کے بغیر پیدا ہوتے اور پیدائشی طور پر اس سے سالم ہوتے تو اس سے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقت کا اندازہ نہ ہو سکتا، سو اللہ تعالیٰ جبریل علیہ السلام کے ذریعہ اس کرامت کا اظہار کیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہر کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باطن کا کمال بھی ثابت ہو جائے۔