حدیث نمبر: 10458
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ مَيْسَرَةَ الْفَجْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَتَى كُنْتَ وَفِي لَفْظٍ جُعِلْتَ نَبِيًّا قَالَ وَآدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا میسرہ فجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو کب نبی بنایا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت نبی بنا دیا گیا تھا کہ ابھی تک آدم علیہ السلام روح اور جسم کے درمیان تھے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ تقدیر کا مسئلہ بیان کیا جا رہا ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا فیصلہ لکھا جا چکا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10458
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير : 20/ 834، والحاكم: 2/ 608 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20872»