الفتح الربانی
قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية— گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ وَشَيْءٍ مِنْ شِعْرِهِ باب: امیہ بن ابی صلت اور اس کے چند اشعارکا
حدیث نمبر: 10451
عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَنْشَدَهُ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ قَالَ فَأَنْشَدَهُ مِائَةَ قَافِيَةٍ قَالَ فَلَمْ أُنْشِدْهُ شَيْئًا إِلَّا قَالَ إِيهْ إِيهْ حَتَّى إِذَا اسْتَفْرَغْتُ مِنْ مِائَةِ قَافِيَةٍ قَالَ كَادَ أَنْ يُسْلِمَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا شرید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ امیہ بن ابی صلت کے شعر پڑھے، پس میں نے سو قافیے پڑھ دیئے، میں جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا کوئی کلام سناتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: اور سناؤ، اور سناؤ۔ یہاں تک کہ جب میں سو قافیوں سے فارغ ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہو جاتا۔
وضاحت:
فوائد: … امیہ بن ابی صلت نے اتنے عمدہ اشعار کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اشعار پسند کیے، لیکن اس شخص کو اسلام نصیب نہ ہو سکا۔