الفتح الربانی
قصص بني إسرائيل وغيرهم حتى نهاية الفترة، وبيان أحوال العرب فى الجاهلية— گزر جانے والے بنی اسرائیل وغیرہ کے فترہ کے آخر تک کے قصوں اور عربوں اور ان کی جاہلیت کے زمانے کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَرْبِ الْعَارِبَةِ وَالْمُسْتَعْرِبَةِ وَإِلَى مَنْ يَنتَسِبُونَ وَذِكْرِ قَحْطَانَ وَقِصَّةِ سَبَا باب: عاربہ اور مستعربہ عربوں اور ان کے منسوب الیہ کا بیان اور قحطان کا ذکر اور سبا کا قصہ¤عاربہ: خالص عرب¤مستعربہ: وہ غیر عرب جو عربوں میں شامل ہو کر خود کو عرب سمجھنے لگے۔
حدیث نمبر: 10441
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبَإٍ مَا هُوَ أَرَجُلٌ أَمِ امْرَأَةٌ أَمْ أَرْضٌ فَقَالَ بَلْ هُوَ رَجُلٌ وَلَدَ عَشَرَةً فَسَكَنَ الْيَمَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَبِالشَّامِ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فَأَمَّا الْيَمَانِيُّونَ فَمَذْحِجٌ وَكِنْدَةُ وَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّونَ وَأَنْمَارٌ وَحِمْيَرُ عَرَبًا كُلُّهَا وَأَمَّا الشَّامِيَّةُ فَلَخْمٌ وَجُذَامٌ وَعَامِلَةُ وَغَسَّانُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سبا کے بارے میں سوال کیا کہ وہ مرد تھا یا عورت یا زمین کانام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:وہ مرد تھا، اس کے دس بچے تھے، ان میں چھ یمن میں اور چار شام میں آباد ہوئے، پس یمنییہ ہیں: مذحج، کندہ، ازد، اشعری، انمار اور حمیر،یہ سارے کے سارے عرب تھے اور شامییہ ہیں: لخم، جذام، عاملہ اور غسان۔
وضاحت:
فوائد: … دس بچے ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہ دس آدمی سبا کی نسل میں سے ہیں،کوئی اس کا بیٹا ہے، کوئی پوتا اور پڑپوتا وغیرہ۔