الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي شَيْءٍ مِنْ حِكْمَةٍ فِي الْقَضَايَا باب: فیصلوں میں سلیمان علیہ السلام کی حکمت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الْابْنَيْنِ فَتَحَاكَمَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا فَقَالَتِ الصُّغْرَى يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا لَا تَشُقُّهُ فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى)) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنْ عَلِمْنَا مَا السِّكِّينُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو عورتیں تھیں، دونوں کے ساتھ ایک ایک بیٹا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بیٹا لے گیا، پس دونوں فیصلہ کر لے داود علیہ السلام کے پاس آئیں، انھوں نے بڑی کے حق میں اس بچے کا فیصلہ کر دیا، پھر وہ دونوں چلی گئیں،سلیمان علیہ السلام نے ان کو بلایا اور کہا: چھری لے آؤ، تاکہ میں اس بچے کو اِن دونوں خواتین میں تقسیم کر دوں، یہ بات سن کر چھوٹی خاتون نے کہا: اللہ تم پر رحم کرے، یہ اسی بڑی کا بیٹا ہے، اس کو چیرا مت دو، اس خاتون کی یہ بات سن کر سلیمان علیہ السلام نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اس دن ہمیں پتہ چلا کہ چھری کو سِکِّیْن بھی کہتے ہیں، ہم تو اس کو مُدْیَۃ ہی کہتے تھے۔
اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ممکن ہے کہ اصل صورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مخفی رہ جائے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظاہری شواہد و قرائن کا اعتبار کرنا ہے۔