الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ ذِكْرِ نَبِيِّ اللَّهِ صَالِحٍ عليه السلام باب: اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کا ذکر
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الْعَشِيرَةِ فَذَكَرَ قِصَّةً وَذَكَرَ أَنَّهُمَا نَامَا عَلَى التُّرَابِ قَالَ فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ يَا أَبَا تُرَابٍ لِمَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ قَالَ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي قَرْنَهُ حَتَّى تُبَلَّ مِنْهُ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ ذت العشیرہ میں رفیق تھے، پھر انھوں نے ایک قصہ بیان کیا، اس میں یہ ذکر بھی تھا کہ وہ دونوں مٹی پر سو گئے، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اے ابو تراب کی کنیت سے پکارا، کیونکہ ان کے وجود پر مٹی نظر آ رہی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔