حدیث نمبر: 10193
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ وَالْهَوَامِّ فِيهَا يَتَعَاطَفُونَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى أَوْلَادِهَا وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں، اس نے ان میں ایک رحمت انسانوں، جنوں اور کیڑوں مکوڑوں کے درمیان نازل کی ہے، اس کی وجہ وہ ایک دوسرے سے محبت اور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں، اسی کے اثر سے وحشی جانور اپنے بچوں پر مہربانی کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتوں کو قیامت کے دن تک مؤخر کر دیا ہے، وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں پر رحم کرے گا۔

وضاحت:
فوائد: … تمام مخلوقات میںمحبت کا جو عنصر پایا جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی اس ایک رحمت کا اثر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوبة / حدیث: 10193
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2752، وأخرج بنحوه و اطول منه البخاري: 6469 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9607»