حدیث نمبر: 10175
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ قَالَ نَعَمْ وَقَالَ مَرَّةً سَمِعْتُهُ يَقُولُ النَّدَمُ تَوْبَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ عبد اللہ بن معقل کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انھوں نے پوچھا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ندامت توبہ ہے۔؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔

وضاحت:
فوائد: … اگر گناہ کا تعلق اللہ تعالیٰ کے حقوق سے ہے تو ایسے گناہ سے توبہ کی قبولیت کے لیے تین شرطیں ہیں: (۱)اس گناہ کو ترک کر دینا، (۲) اس پر ندامت کا اظہار کرنا اور (۳) اس کو آئندہ نہ کرنے پر پکا ارادہ کرنا۔ اور اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقو ق سے ہے تو اس کی چار شرطیں ہیں، مذکورہ تین اور چوتھییہ کہ صاحب حق کا حق ادا کیا جائے اور کسی انداز میں اس کے ساتھ تصفیہ کر لیا جائے۔
مرکزی شرط ندامت ہی ہے، جب مسلمان اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی خطا پر نادم ہو گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرے گا اور وہ خود آئندہ ایسا گناہ کرنے سے محفوظ رہے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوبة / حدیث: 10175
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، أخرجه ابن ماجه: 4252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3568»