الفتح الربانی
كتاب التوبة— توبہ کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي حَدْ الْوَقْتِ الَّذِي تُقْبَلُ فِيهِ التَّوْبَةُ باب: اس زمانے کے تعین کا بیان، جس میں توبہ قبول ہوتی ہے
حدیث نمبر: 10172
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ أَوْ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعِ الْحِجَابُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحِجَابُ قَالَ أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، یا اس کو بخش دیتا ہے، جبکہ تک پردہ واقع نہ ہو جائے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پردے سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی جان کا شرک کی حالت میں مرنا۔
وضاحت:
فوائد: … شرک کی حالت میں مرنے والے کے لیے توبہ تائب ہونے کے اسباب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دونوں جہاں میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔