سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
حدیث نمبر: 999
وَقَالَ الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلا أُخْبِرُكُمْ بِصَلاةِ الْمُنَافِقِ ، يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتْ فَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلا قَلِيلا " .محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا میں تمہیں منافق کی نماز کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ سورج کی طرف دیکھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے تو وہ شخص اٹھ کر چار مرتبہ ٹھونگے مارتا ہے اور وہ اس نماز میں اللہ کا ذکر بہت تھوڑا سا کرتا ہے۔“