سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ باب: : نماز کے اوقات کا تذکرہ اور اس کے بارے میں روایات کا اختلاف
حَدَّثَنَا بِهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْوَاحِدِ أَبَا الرَّمَّاحِ الْكِلابِيَّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَأَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ بِصَلاةِ الْعَصْرِ فَكَأَنَّهُ عَجَّلَهَا ، فَلامَهُ قَالَ : " وَيْحَكَ أَخْبَرَنِي أَبِي ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعَصْرِ " . وَرَوَاهُ حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ هَذَا ، وَقَالَ : عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ نُفَيْعٍ خَالَفَ فِي نَسَبِهِ ، وَهَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفُ الإِسْنَادِ مِنْ جِهَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ هَذَا ، لأَنَّهُ لَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ غَيْرُهُ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي اسْمِ ابْنِ رَافِعٍ هَذَا ، وَلا يَصِحُّ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ رَافِعٍ ، وَلا عَنْ غَيْرِهِ مِنَ الصَّحَابَةِ ، وَالصَّحِيحُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَعَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضِدُّ هَذَا ، وَهُوَ التَّعْجِيلُ بِصَلاةِ الْعَصْرِ وَالتَّبْكِيرِ بِهَا . فَأَمَّا الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.عبدالرحمن بن رافع کے بارے میں منقول ہے: ایک مرتبہ موذن نے عصر کی اذان دی، اس نے اذان ذرا جلدی دے دی، تو سیدنا عبدالرحمن بن رافع نے اسے ملامت کرتے ہوئے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو! میرے والد نے (جو صحابی رسول تھے) مجھے یہ بات بتائی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عصر کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، جبکہ بعض دیگر صحابہ کرام سے اس کے برعکس منقول ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سیدنا رافع بن خدیج کے حوالے سے صحیح روایت یہ (درج ذیل) ہے۔