حدیث نمبر: 989
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالا : نا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ نا أَبُو عَاصِمٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بِالْعَصْرِ ، قَالَ : وَشَيْخٌ جَالِسٌ فَلامَهُ ، وَقَالَ : إِنَّ أَبِي أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِتَأْخِيرِ هَذِهِ الصَّلاةِ " ، قَالَ : فَسَأَلْتُ عَنْهُ ، فَقَالُوا : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِيجِ بْنِ رَافِعٍ . هَذَا لَيْسَ بِقَوِيٍّ ، وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، فَكَنَّاهُ : أَبَا الرَّمَّاحِ ، وَخَالَفَ فِي اسْمِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، فَسَمَّاهُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ.
محمد محی الدین

عبدالواحد بن نافع بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ کی مسجد میں داخل ہوا تو موذن نے عصر کی اذان دی، راوی بیان کرتے ہیں وہاں ایک بزرگ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے موذن کو ملامت کی اور یہ بولے: ”میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس نماز کو تاخیر کے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت کرتے تھے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ان بزرگ کے بارے میں دریافت کیا تو لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا عبداللہ بن رافع بن خدیج ہیں (یعنی صحابی رسول سیدنا رافع بن خدیج کے صاحبزادے ہیں)۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا رافع کے یہ صاحبزادے قوی نہیں ہیں۔ موسیٰ بن اسماعیل نامی راوی نے یہ روایت نقل کرتے ہوئے یہ بات بیان کی ہے: ان کی کنیت ابورماح تھی، اسی طرح ان کے نام کے بارے میں بھی اختلاف ہے، بعض راویوں نے ان کا نام عبدالرحمن نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصلاة / حدیث: 989
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 989، 990، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16047، 17555، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4376»
«قال الدارقطني: حديث ضعيف الإسناد والصحيح عن رافع وغيره ضد هذا وعبد الله بن رافع ليس بالقوي، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 245)»