سنن الدارقطني
كتاب الحيض— حیض کا بیان
بَابُ جَوَازِ الْمَسْحِ عَلَى الْجَبَائِرِ باب: : پٹی پر مسح کرنا جائز ہے
ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ ، بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَهُوَ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَبَائِرِ يَكُونُ عَلَى الْكَسِيرِ كَيْفَ يَتَوَضَّأُ صَاحِبُهَا وَكَيْفَ يَغْتَسِلُ إِذَا أَجْنَبَ ؟ قَالَ : " يَمْسَحَانِ بِالْمَاءِ عَلَيْهَا فِي الْجَنَابَةِ وَالْوُضُوءِ " ، قُلْتُ : فَإِنْ كَانَ فِي بَرْدٍ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ إِذَا اغْتَسَلَ ؟ قَالَ : " يَمُرُّ عَلَى جَسَدِهِ " ، وَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا سورة النساء آية 29 ، وَيَتَيَمَّمُ إِذَا خَافَ " .سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پٹی کے بارے میں پوچھا جو زخم پر باندھی جاتی ہے کہ ایسا شخص وضو کیسے کرے گا، اور اگر وہ جنبی ہو جائے تو غسل کیسے کرے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا شخص جنابت کی حالت میں پانی سے اس پر مسح کر لے گا۔“ پھر میں نے عرض کیا: اگر سردی ہو یا جان کا اندیشہ ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنے پورے جسم پر مسح کر لے گا۔“ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی: ”تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تمہارے بارے میں رحم کرنے والا ہے۔“ آپ نے فرمایا: ”ایسے شخص کو جب اندیشہ ہو تو وہ تیمم کر لے۔“