حدیث نمبر: 840
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ مُسْلِمٍ الصَّيْرَفِيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لَمْ تُصَلِّ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ ، فَذَكَرَ كَلِمَةً بَعْدَهَا أَيَّامُ أَقْرَائِهَا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي وَتُؤَخِّرُ مِنَ الظُّهْرِ وَتُعَجِّلُ مِنَ الْعَصْرِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلا وَاحِدًا ، وَتُؤَخِّرُ مِنَ الْمَغْرِبِ وَتُعَجِّلُ مِنَ الْعِشَاءِ وَتَغْتَسِلُ لَهُمَا غُسْلا وَتُصَلِّي " .
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! فاطمہ بنت ابوحبیش نے اتنے عرصے سے نماز ادا نہیں کی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ کسی اور رگ کا خون ہے۔“ پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض کے ایام کے بارے میں کوئی بات ارشاد فرمائی۔ پھر فرمایا: ”وہ ظہر کو موخر کرے، عصر کو جلدی کرے، پھر ان کے لیے غسل کر کے دونوں کو ایک ساتھ نماز ادا کرے۔ مغرب کو موخر کرے، عشاء کو جلدی کرے اور ان دونوں کے لیے ایک مرتبہ غسل کر کے نماز ادا کرے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحيض / حدیث: 840
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 623، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 296، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1687، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 839، 840، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 632، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2730، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 370»