حدیث نمبر: 819
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ سَهْلٍ الْبَرْبَهَارِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ مَالَجَ ، نا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي اسْتُحِضْتُ فَمَا أَطْهُرُ ، فَقَالَ : " ذَرِي الصَّلاةَ أَيَّامَ حَيْضَتِكِ ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ " . تَابَعَهُ وَكِيعٌ ، وَالْحَرْبِيُّ وَقُرَّةُ بْنُ عِيسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَسَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ فَرَفَعُوهُ . وَوَقَفَهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَأَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ . وَهُمْ أَثْبَاتٌ.
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فاطمہ بنت ابوحبیش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں استحاضہ میں مبتلا ہوں تو میں کیسے پاک ہو گی؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے حیض کے ایام شمار کر لو۔ اس میں نماز کو ترک کر دو۔ اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے لیے وضو کیا کرو، اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ بعض راویوں نے اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے جبکہ بعض راویوں نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور یہ روایت بھی مستند ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الحيض / حدیث: 819
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 228، 306، 320، 325، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 333، 333، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 198 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1348، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 622، ، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 201 ، 3555 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 280، 281، 282، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 125، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 801، 806، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 620، 621، 624، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 818، 819، 820، 821، 822، 823، 824، 825، 828، 829، 830، 832، 841، 842، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 193، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 230، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24779»
«قال الدارقطني: لا يصح وقد روي م