حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَاهِلِيُّ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ ، نا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ ، نا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ قَمِيرٍ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ فَانْظُرِي أَيَّامَ إِقْرَائِكِ فَإِذَا جَاوَزَتْ فَاغْتَسِلِي وَاسْتَنْقِي ، ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاةٍ " . تَفَرَّدَ بِهِ عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، عَنْ أَبِي يُوسُفَ ، وَالَّذِي عِنْدَ النَّاسِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الإِسْنَادِ مَوْقُوفًا : " الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاةٍ ".سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فاطمہ بنت ابوحبیش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ انہوں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں استحاضہ کا شکار عورت ہوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کسی اور رگ کا خون ہے۔ تو تم اپنے حیض کے ایام کا حساب رکھو۔ جب اس سے زیادہ دن ہو جائیں تو غسل کر کے صفائی کر کے نماز ادا کر لیا کرو۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں عمار نامی راوی منفرد ہے، یہ ضعیف ہیں جبکہ محدثین کے نزدیک اسماعیل سے منقول ہونے کے اعتبار سے یہ روایت موقوف ہے۔ (اس میں یہ الفاظ ہیں) ”استحاضہ کا شکار عورت اپنے حیض کے ایام شمار کرے گی۔ اس کے بعد وہ غسل کر لے گی اور ہر نماز کے لیے وضو کرے گی۔“