سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عِيسَى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ خُزَيْمَةَ النَّيْسَابُورِيَّ ، يَقُولُ : ذَكَرْتُ لِلْمُزَنِيِّ خَبَرَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ هَذَا ، فَقَالَ لِي : حَدَّثَ بِهِ أَصْحَابُنَا فَإِنَّهُ لَيْسَ لِلشَّافِعِيِّ حُجَّةٌ أَقْوَى مِنْ هَذَا ، يَعْنِي قَوْلَهُ " إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ ".محمد محی الدین
علی بن ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے شیخ ابوبکر بن خزیمہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ: ”میں نے عبدالرزاق کی روایت امام مزنی سے ذکر کی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ ہمارے ساتھیوں نے بھی یہ روایت بیان کی ہے، کیونکہ امام شافعی کی اس سے مستند دلیل اور کوئی نہیں ہے۔“ مصنف فرماتے ہیں کہ یعنی روایت کے یہ الفاظ کہ: ”جب ہم نے باوضو حالت میں انہیں ان میں داخل کیا ہو۔“