سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، نا يَحْيَى بْنُ غَيْلانَ ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ الْبَلَوِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَامًا ، قَالَ عُقْبَةُ : وَعَلَيَّ خُفَّانِ مِنْ تِلْكَ الْخِفَافِ الْغِلاظِ ، فَقَالَ لِي عُمَرُ : " مَتَى عَهْدُكَ بِلُبْسِهُمَا ؟ " ، فَقُلْتُ : لَبِسْتُهُمَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالْيَوْمُ الْجُمُعَةُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : " أَصَبْتَ السُّنَّةَ " . وَقَالَ يُونُسُ : فَقَالَ : أَصَبْتَ ، وَلَمْ يَقُلِ السُّنَّةَ.مفضل بن فضالہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یزید بن ابی حبیب سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن حکم نے علی بن رباح کے حوالے سے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے۔ سیدنا عقبہ نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ وہ وفد میں شامل ہو کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عقبہ فرماتے ہیں کہ: ”اس وقت میں نے موٹے والے موزے پہنے ہوئے تھے جب کہ اس دن جمعہ ہی تھا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ: ”تم نے سنت کے مطابق عمل کیا ہے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ: ”تم نے ٹھیک کیا ہے،“ اس میں لفظ ”سنت“ منقول نہیں ہے۔