سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَمَا فِيهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ باب: : موزوں پر مسح کے بارے میں رخصت اور اس بارے میں روایات میں اختلاف
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلَ سَعْدٌ عُمَرَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُ بِالْمَسْحِ عَلَى ظَهْرِ الْخُفِّ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمًا وَلَيْلَةً " .محمد محی الدین
سالم اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنے کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے جو مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں جب کہ مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے۔“