سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي جَوَازِ التَّيَمُّمِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ سِنِينَ كَثِيرَةً باب: : جو شخص کئی برس تک پانی نہ پائے ، اس کے لیے تیمم کا جائز ہونا
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَجُلانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتْهُمَا الصَّلاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا ، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ بَعْدُ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلاةَ بِوَضُوءٍ وَلَمْ يُعِدِ الآخَرُ ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ : " أَصَبْتَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلاتُكَ " ، وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ : " لَكَ الأَجْرُ مَرَّتَيْنِ " . تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعِ ، عَنِ اللَّيْثِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مُتَّصِلا . وَخَالَفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ دو آدمی سفر پر روانہ ہوئے۔ ان دونوں کے سامنے نماز کا وقت آ گیا۔ ان کے پاس پانی نہیں تھا، ان دونوں نے پاک مٹی کے ذریعے تیمم کیا پھر اس نماز کے وقت کے دوران ان دونوں کو پانی مل گیا۔ ان دونوں میں سے ایک شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز ادا کی، جب کہ دوسرے شخص نے دوبارہ نماز ادا نہ کی۔ پھر یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے جس نے نماز کا اعادہ نہیں کیا تھا، یہ فرمایا: ”تم نے ٹھیک کیا ہے، تمہاری نماز درست ہوئی ہے۔“ جس دوسرے شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی تھی اس سے یہ فرمایا: ”تمہیں دوگنا اجر ملے گا۔“ اس روایت کو لیث نامی راوی کے حوالے سے نقل کرنے میں، عبداللہ بن نافع نامی راوی منفرد ہے۔ ابن مبارک اور دیگر محدثین نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے۔