حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، نا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ ، قَالَ : نُعِتَ لِي أَبُو ذَرٍّ فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : أَنْتَ أَبُو ذَرٍّ ؟ قَالَ : إِنَّ أَهْلِي لَيَزْعُمُونَ ذَلِكَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْتُ ، قَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ ؟ " ، قُلْتُ : إِنِّي أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِيَ أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ مَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَجٍ ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ بَشْرَتَكَ " .
محمد محی الدین

ابوقلابہ بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں: مجھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا گیا تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے دریافت کیا: ”آپ سیدنا ابوذر ہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میرے گھر والے مجھے تو یہی کہتے ہیں۔“ پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا: ایک مرتبہ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کر دیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”میں ایک ایسی جگہ پر تھا جہاں پانی نہیں مل سکتا تھا۔ میرے پاس میری بیوی بھی تھی۔ مجھے جنابت لاحق ہو گئی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پاک مٹی طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے جب تک آدمی کو پانی نہ ملے اگرچہ دس برس گزر جائیں۔ جب تمہیں پانی مل جائے تو وہ اپنے جسم پر ڈال لو۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 722
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2292، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1311، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 632، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 321 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 332، 333، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 124، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 721، 722، 723، 724، 725، 726، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21699، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1673»
« قال الدارقطني: صححه . فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (2 / 63)»