سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ أَحَادِيثِ الْقَهْقَهَةِ فِي الصَّلَاةِ وَعِلَلِهَا باب: : نماز کے دوران قہقہہ لگانے (سے وضو ٹوٹ جانے) کے بارے میں احادیث ان میں موجود علتوں کا بیان
حدیث نمبر: 666
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نا مُحَمَّدٌ حَاتِمٌ الزِّمِّيُّ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ صَلاةَ الْعَصْرِ فَتَبَسَّمَ فِي الصَّلاةِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبَسَّمْتَ وَأَنْتَ تُصَلِّي ، قَالَ : فَقَالَ : " إِنَّهُ مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، وَعَلَى جَنَاحِهِ غُبَارٌ فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ ، وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ " .محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو عصر کی نماز پڑھا رہے تھے، آپ نے نماز کے دوران تبسم فرمایا، جب آپ نے نماز ختم کی تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ! آپ نے نماز کے دوران تبسم فرمایا ہے؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سے میکائیل علیہ السلام گزرے، ان کے پروں پر غبار تھا، وہ مجھے دیکھ کر مسکرائے، تو میں انہیں دیکھ کر مسکرایا، وہ (دشمن) کی ایک قوم کا پیچھا کر کے واپس آ رہے تھے۔“