حدیث نمبر: 625
وَحَدَّثَنَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نا هشَيْمٌ ، نا خالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ . ح قَالَ : وَثنا مَنْصُورٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ : فَتَرَدَّى فِيهَا فَضَحِكَ نَاسٌ خَلْفَهُ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ . وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، وَقَوْلُ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ خَطَأٌ قَبِيحٌ ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَوُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، كَذَلِكَ.
محمد محی الدین

ابن سیرین بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھا رہے تھے، اس کے بعد حدیث حسب سابق بیان کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: وہ شخص اس گڑھے میں گر گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کچھ لوگ ہنس پڑے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا، اس کے بعد حدیث حسب سابق بیان کی ہے۔ یہ روایت مستند ہے، جو خالد کے حوالے سے حفصہ کے حوالے سے ابوالعالیہ کے حوالے سے منقول ہے۔ حسن کا یہ کہنا ہے: یہ خالد کے حوالے سے، ابوالملیح کے حوالے سے، ان کے والد کے حوالے سے منقول ہے، یہ انتہائی صریح غلطی ہے۔ اسی روایت کو بعض دیگر راویوں نے خالد کے حوالے سے، حفصہ کے حوالے سے، ابوالعالیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 625
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 690، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 603، 604، 605، 606، 607، 608، 609، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 3760، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3938، وأخرجه أبو داود فى "المراسيل"، 8»
«قال الدارقطني:وهذا هو الصحيح ، سنن الدارقطني: (1 / 308) برقم: (625)»