سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي مَا رُوِيَ فِيمَنْ نَامَ قَاعِدًا وَقَائِمًا وَمُضْطَجِعًا وَمَا يَلْزَمُ مِنَ الطَّهَارَةِ فِي ذَلِكَ باب: : جو شخص کھڑے ہوئے ، بیٹھے ہوئے یا لیت کر سو جائے، اس کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اس سے طہارت کا لازم ہونا
حدیث نمبر: 599
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَنَّابِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عِمْرَانَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ بِسْطَامٍ ، نا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ نَامَ جَالِسًا فَلا وُضُوءَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ وَضَعَ جَنْبَهُ فَعَلَيْهِ الْوُضُوءُ " .محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جو شخص بیٹھے بٹھائے سو جائے، تو اس پر وضو کرنا لازم نہیں ہوتا، جو شخص اپنا پہلو (زمین پر) رکھ لے، اس پر وضو کرنا لازم ہو گا۔“