سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في القيء أو التجشؤ الحامض في الصلاة باب: : نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 580
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نا صَالِحُ بْنُ مُقَاتِلِ بْنِ صَالِحٍ ، نا أَبِي ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو أَيُّوبَ الْقُرَشِيُّ ، بِالرَّقَّةِ ، نا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى غَسْلِ مَحَاجِمِهِ " .محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوانے کے بعد نماز ادا کی اور از سر نو وضو نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس جگہ کو دھویا، جہاں پر پچھنے لگوائے تھے۔