سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ما جاء في القيء أو التجشؤ الحامض في الصلاة باب: : نماز کے دوران قے آنے یا کھٹا ڈکار آنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالا : نا أَبُو عَاصِمٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ طَيْفُورٍ ، وإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَبُو الأَزْهَرِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَاءَ أَحَدُكُمْ أَوْ قَلَسَ أَوْ وَجَدَ مَذْيًا وَهُوَ فِي الصَّلاةِ فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَتَوَضَّأْ ، وَلِيَرْجِعْ فَلْيَبْنِ عَلَى صَلاتِهِ مَا لَمْ يَتَكَلَّمْ " . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى ، يَقُولُ : هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ الَّذِي يَرْوِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ.ابن جریج اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جب کسی شخص کو نماز کے دوران قے آ جائے یا کھٹا ڈکار آ جائے یا ہوا خارج ہو، تو وہ واپس جائے، وضو کرے اور واپس آکر اپنی نماز کو وہیں سے پڑھنا شروع کر دے (جہاں سے چھوڑ کر گیا تھا)، یہ اس وقت ہے، جب اس نے کوئی کلام نہ کیا ہو۔“ ابوبکر نے یہ بات بیان کی ہے: اس کا ابن جریج سے مرسل روایت کے طور پر منقول ہونا درست ہے، تاہم ایک راوی اسماعیل بن عیاش نے اسے ابن جریج کے حوالے سے، ابن ابی ملیکہ کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔