سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 519
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ ، نا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، نا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ " كَانَ يَرَى الْقُبْلَةَ مِنَ اللَّمْسِ ، وَيَأْمُرُ فِيهَا بِالْوُضُوءِ " .محمد محی الدین
سالم نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے: وہ یہ سمجھتے تھے: ”بوسہ لینا، لمس (چھونے، جس کا ذکر قرآن میں ہے) کا حصہ ہے۔“ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس بارے میں وضو کرنے کا حکم دیا۔