سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، قَالا : نا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ ، نا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ فِرَاشِي ، فَقُلْتُ : قَامَ إِلَى جَارِيَتِهِ مَارِيَةَ ، فَقُمْتُ أَتَجَسَّسُ الْجُدُرَ وَلَيْسَ لَنَا كَمَصَابِيحِكُمْ هَذِهِ ، فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ ، فَوَضَعْتُ يَدَيْ عَلَى صَدْرِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " . الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ضَعِيفٌ . خَالَفَهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَوُهَيْبٌ وَغَيْرُهُمَا ، رَوَوْهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مُرْسَلا.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں اٹھی۔ میں نے سوچا کہ آپ اپنی کنیز ماریہ کے پاس تشریف لے گئے ہوں گے۔ میں اٹھی اور دیواروں کو ٹٹولنے لگی، کیونکہ ان دنوں ہمارے ہاں تم لوگوں کی طرح چراغ نہیں ہوتے تھے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں کی پشت پر رکھا تو آپ سجدے میں یہ دعا مانگ رہے تھے: ”اے اللہ! میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں، تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں، اور تیری بارگاہ میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری ثناء بیان نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تونے خود اپنی ثناء بیان کی ہے۔“ اس روایت کا ایک راوی فرج بن فضالہ رحمہ اللہ ضعیف ہے۔ بعض دیگر راویوں نے اسے مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے۔