حدیث نمبر: 515
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، قَالا : نا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمِصْرِيُّ ، نا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ فِرَاشِي ، فَقُلْتُ : قَامَ إِلَى جَارِيَتِهِ مَارِيَةَ ، فَقُمْتُ أَتَجَسَّسُ الْجُدُرَ وَلَيْسَ لَنَا كَمَصَابِيحِكُمْ هَذِهِ ، فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ ، فَوَضَعْتُ يَدَيْ عَلَى صَدْرِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ ، وَأَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ ، لا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " . الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ضَعِيفٌ . خَالَفَهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَوُهَيْبٌ وَغَيْرُهُمَا ، رَوَوْهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، مُرْسَلا.
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا تو میں اٹھی۔ میں نے سوچا کہ آپ اپنی کنیز ماریہ کے پاس تشریف لے گئے ہوں گے۔ میں اٹھی اور دیواروں کو ٹٹولنے لگی، کیونکہ ان دنوں ہمارے ہاں تم لوگوں کی طرح چراغ نہیں ہوتے تھے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں کی پشت پر رکھا تو آپ سجدے میں یہ دعا مانگ رہے تھے: ”اے اللہ! میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں، تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں، اور تیری بارگاہ میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری ثناء بیان نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تونے خود اپنی ثناء بیان کی ہے۔“ اس روایت کا ایک راوی فرج بن فضالہ رحمہ اللہ ضعیف ہے۔ بعض دیگر راویوں نے اسے مرسل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 515
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 485، 486، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 725، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 654، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1932، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 812، 838، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 169، 1099، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 879، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 739، 3493، ، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1389، 3841، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 513، 515، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 476، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24950»
«قال ابن حجر: فإنه من رواية فرج بن فضالة وهو ضعيف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 212)»