سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، نا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، وَحَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِنْقَرِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، قَالُوا : نا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْفِرَاشِ ، فَالْتَمَسْتُهُ بِيَدِي فَوَقَعَتْ يَدَيْ عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُمَا مُنْتَصِبَانِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ ، وَبِكَ مِنْكَ ، لا أُحْصِي مَدْحَتَكَ وَثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ " . هَذَا لَفْظُ ابْنِ كَرَامَةَ ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي دَاوُدَ : بِمُعَافَاتِكَ مِنْ غَضَبِكَ . تَابَعَهُ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . وَخَالَفَهُمْ وُهَيْبٌ ، وَمُعْتَمِرٌ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، فَرَوَوْهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَقَالُوا عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، وَلَمْ يَذْكُرُوا أَبَا هُرَيْرَةَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر موجود نہ پایا۔ میں نے اپنے ہاتھ سے آپ کو تلاش کیا تو میرا ہاتھ آپ کے دونوں پاؤں پر پڑا، جو سجدے کی حالت میں تھے۔ میں نے سنا کہ آپ یہ دعا مانگ رہے تھے: ”اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں، تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں، اور تیری بارگاہ میں تیری ہی پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری ثناء بیان نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تونے خود اپنی ذات کی ثناء بیان کی ہے۔“ اس روایت کی سند میں کچھ اختلافات پائے جاتے ہیں۔