سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْجُرْجَانِيُّ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي رَوْقٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُقَبِّلُ بَعْدَ الْوُضُوءِ ، ثُمَّ لا يُعِيدُ الْوُضُوءَ ، أَوْ قَالَتْ : يُصَلِّي " .محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے کے بعد (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لیتے تھے اور از سر نو وضو نہیں کرتے تھے۔ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) آپ نماز ادا کر لیتے تھے۔