سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ صِفَةِ مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ وَمَا رُوِيَ فِي الْمُلَامَسَةِ وَالْقُبْلَةِ باب: : ان چیزوں کا بیان جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور چھو لینے اور بوسہ دینے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 499
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ حَدِيثًا الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " تُصَلِّي وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ وَفِي الْقُبْلَةِ " . قَالَ يَحْيَى : احْكِ عَنِّي أَنَّهُمَا شِبْهٌ لا شَيْءَ.محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نماز ادا کر لیتی تھی، اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوتے تھے۔ اسی طرح بوسہ لینے کے حوالے سے بھی یحییٰ نامی راوی نے بیان کیا ہے: ”اسے میری طرف سے بیان کر دو۔“ ان دونوں کی حیثیت اسی طرح ہے، جیسے ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔