حدیث نمبر: 4829
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ، وَأَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، قَالُوا : نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْعَضْبَاءَ نَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَتْ لا تُسْبَقُ كُلَّمَا دُفِعَتْ فِي سِبَاقٍ ، فَدُفِعَتْ يَوْمًا فِي إِبِلٍ فَسُبِقَتْ فَكَانَتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ كَآبَةٌ أَنْ سُبِقَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَفَعُوا شَيْئًا ، أَوْ أَرَادُوا رَفْعَ شَيْءٍ وَضَعَهُ اللَّهُ " .
محمد محی الدین

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ قصواء نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی تھی، وہ جس دوڑ میں بھی شامل ہوتی تھی، آگے نکل جایا کرتی تھی، کوئی اس سے آگے نہیں نکل سکتا تھا، ایک مرتبہ ایک دوڑ کے دوران وہ پیچھے رہ گئی تو صحابہ کرام کو بہت تکلیف ہوئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ایک بات ارشاد فرمائی: ”لوگ جب بلندی حاصل کرتے ہیں تو بعض اوقات اللہ تعالیٰ ان کو پستی کی طرف بھی لے جاتا ہے (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں:) جب کسی کو بلند دیکھنا چاہتے ہیں۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب السبق بين الخيل وما روي فيه عن النبى صلى الله عليه وسلم وهو زيادة فى الكتاب / حدیث: 4829
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4829، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الدارقطني: وكذلك رواه يحيى بن سعيد الأنصاري عن الزهري عن سعيد مرسلا والمرسل أصح ، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (9 / 172)»