سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ حَارِثَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ ، فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ ، فَقَضَى لِلَّذِينَ يَلِيهِمُ الْقِمْطُ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " أَصَبْتَ " ، أَوْ " أَحْسَنْتَ " . لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.نمران حارثہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بیان کی ہے کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گھر کا مقدمہ لے کر آئے، جو ان کے درمیان مشترک تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جس کے حصے میں اس کی رسیاں بندھی ہوئی تھیں۔ جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک فیصلہ دیا ہے۔“ راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں (کہ تم نے اچھا فیصلہ دیا ہے)۔