حدیث نمبر: 4545
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ حَارِثَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ ، فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ ، فَقَضَى لِلَّذِينَ يَلِيهِمُ الْقِمْطُ ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " أَصَبْتَ " ، أَوْ " أَحْسَنْتَ " . لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.
محمد محی الدین

نمران حارثہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بیان کی ہے کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گھر کا مقدمہ لے کر آئے، جو ان کے درمیان مشترک تھا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دیا جس کے حصے میں اس کی رسیاں بندھی ہوئی تھیں۔ جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک فیصلہ دیا ہے۔“ راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں (کہ تم نے اچھا فیصلہ دیا ہے)۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك / حدیث: 4545
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2343، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11487، 11488، 11489، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4544، 4545، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 3791، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 2087، 2088»
«قال الدارقطني: لم يروه غير دهثم بن قران وهو ضعيف وقد اختلف في إسناده ، سنن الدارقطني: (5 / 410) برقم: (4545)»