سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
حدیث نمبر: 4533
نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ رُزَيْقٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ سَامَهُ سَعْدٌ بِبَيْتٍ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : مَا أَنَا بِزَائِدِكَ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ مِثْقَالٍ فَقَالَ لَهُ أَبُو رَافِعٍ : لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ ، وَالصَّقْبُ الْقُرْبُ ، مَا أَعْطَيْتُكَ " .محمد محی الدین
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے گھر کا سودا کیا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں آپ کو چار سو درہم سے زیادہ ادائیگی نہیں کروں گا۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ”پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہوتا ہے“ (تو میں آپ کو یہ فروخت نہ کرتا)۔ سقب کا مطلب کسی جگہ کا قریب ہونا ہے۔